پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدہ

Posted: August 7, 2010 in Uncategorized
Tags: , ,

پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدہ

صنعت کاروں، ٹرانسپورٹروں اور حکومت خیبر پختونخوا کے تحفظات

ضیاءالرحمن


پاکستان اور افغانستان کے مابین حال ہی میں ہونے والے پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے پرصنعت کاروں، کاروباری تنظیموں اورگڈز ٹرانسپورٹرزتنظیموں کے ساتھ ساتھ خیبرپختونخوا کی حکومت کی جانب سے شدیدتحفظات دیکھنے میں آئے ہیں۔ ان کاکہنا ہے کہ حکومت نے معاہدے پر دستخط سے قبل نہ ہی ملک کے تجارتی اور کاروباری حلقوں سے مشاورت کی اور نہ ہی سیاسی جماعتوں کو اس حوالے سے اعتماد میں لیا گیا ہے۔

افغانستان کوبندرگاہ کی سہولت دینے کے لیے 1965ء میں پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈکامعاہدہ ہواتھا جس کے تحت افغانستان پاکستانی بندرگاہوں کے ذریعے اپنی اشیائے ضرورت ٹیکسوں، ڈیوٹیوں اور چارجز کی رعایت کے ساتھ درآمدکر رہا تھا۔ تاہم ٹیکسوں میں چھوٹ کی وجہ سے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے ذریعے افغانستان کے لیے درآمد ہونے والی اشیاء سمگل ہو کر پاکستانی مارکیٹوں میں بڑے پیمانے پر فروخت ہونا شروع ہو گئیں۔ افغانستان میں حالیہ درآمدی سرگرمیوں کا انحصار پاکستان پر ہے اور دونوں ممالک کے مابین تجارت کا توازن پاکستان کے فائدے میں جاتا ہے۔ پشاور یونیورسٹی کے ایریاسٹڈی سینٹر فار افغانستان کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان اورافغانستان کے مابین ہونے والی تجارت کا حجم بارہ ارب ڈالرز کے لگ بھگ ہے۔ ستمبر 2001ء کے بعد سے افغانستان میں کھربوں ڈالرز کے تعمیرنو کے منصوبوں پر کام جاری ہے جس کے لیے تعمیرات میں استعمال ہونے والی اشیاء مثلاً سیمنٹ اور الیکٹرک کے سامان کی طلب کا ایک بڑا حصہ پاکستان کی جانب سے پوراکیاجاتاہے۔ اس کے علاوہ پاکستان کی صنعتیں اورکمپنیاں خوراک، ادویات، پیک شدہ دودھ ،پینے کاپانی،گندم ،چاول اور دیگر زرعی اشیا کی طلب بھی پوراکرتی ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ افغانستان میں موجود اتحادی افواج کے لیے جانے والی سپلائی کا80 فیصد کراچی کی بندرگاہ کے ذریعے افغانستان پہنچایاجاتاہے۔ اسی معاہدے کی وجہ سے پاکستان میں ٹرانسپورٹ کے شعبہ کو فروغ ملا اور پاکستان سے ہزاروں ٹرک اورٹرالرزاس معاہدے کے تحت درآمدی اشیاءافغانستان پہنچارہے ہیں۔


افغان حکومت خطے میں رونما ہونے والی تبدیلوں کے تناظرمیں 46سالہ اس پرانے تجارتی راہداری معاہدے کاازسرنوجائزہ لے کرنئی شرائط کے ساتھ دوبارہ معاہدہ کرنا چاہتی تھی جبکہ اطلاعات کے مطابق اس حوالے سے افغان وزیر تجارت ڈاکٹرانوارالحق احدی کی جانب سے اپنے پاکستانی ہم منصب مخدوم امین فہیم کے ساتھ کیے جانے والے اجلاسوں میں پاکستان بھارت کوراہداری نہ دینے کی وجہ سے معاہدے پردستخط سے انکار کر رہاتھا مگر بعد میں امریکی وزیرخارجہ ہیلری کلنٹن کی پاکستان آمدپران کی موجودگی میں معاہدے پردستخط کیے گئے۔ بعض صحافتی حلقوں کا کہنا ہے کہ ہیلری کلنٹن اپنے دورہ افغانستان سے قبل اس معاہدے پردستخط کرواناچاہتی تھیں۔ نئے معاہدے کے تحت پاکستان نے پہلی بار افغانستان کو اپناتجارتی سامان واہگہ سرحدکے راستےھارت لے جانے کی اجازت دی ہے جبکہ اس کے بدلے میں پاکستان افغان سرزمین کواستعمال کرتے ہوئے وسطی ایشیائی ممالک کواپناسامان برآمدکرے گا۔


ئے معاہدے پرصنعت کاروں، کاروباری تنظیموں، گڈز ٹرانسپورٹرز تنظیموں اور تجارتی امورکے ماہرین کے ساتھ ساتھ خیبر پختونخواکی حکومت کی جانب سے شدید تحفظات کا اظہارکیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق خیبرپختونخوا کی حکومت نے معاہدے میں صوبے کو اعتماد میں نہ لینے کے حوالے سے وفاق سے رابطہ کیاہے اورانہیںاپنے تحفظات سے آگاہ کیاہے۔ حکومت کا یہ مؤقف ہے کہ معاہدے سے خیبرپختونخوا کی معیشت کو کافی نقصان پہنچ سکتاہے اور صوبے کے تاجروں کو اس حوالے سے شدیدمالی مشکلات کاسامنا کرنا پڑے گا لہٰذا وفاقی حکومت افغان راہداری معاہدے کے حوالے سے صوبائی حکومت کو اعتماد میں لے کر معاہدے پر نظرثانی کرے۔ تاجر اور صنعت کار تنظیموں کاشکوہ ہے کہ حکومت نے معاہدے پردستخط سے قبل ملک کے تجارت اور کاروبارسے وابستہ حلقوں سے مشاورت نہیں کی اور نہ ہی سیاسی جماعتوں کو اس حوالے سے اعتماد میں لیا گیا ہے۔

خیبرپختونخوا چیمبرآف کامرس اینڈانڈسٹری کے صدر ریاض شاہدنے ”ہم شہری“ سے بات چیت کرتے ہوئے اس معاہدے کومسترد کرتے ہوئے کہاکہ یہ پاکستان کی صنعتوں اور کاروبارکے لیے انتہائی نقصان دہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اچھاہوتا کہ اس معاہدے پرپارلیمنٹ سے منظوری کے بعد دستخط کیے جاتے۔ ان کا مؤقف ہے کہ راہداری معاہدے کے تحت بھارتی مال سرحدپرمناسب انتظامات نہ ہونے کے سبب بڑی مقدار میں سمگل ہو کر پاکستان کی مارکیٹوں میں پہنچے گا جو نرخوں کے اعتبار سے پاکستانی اشیاء کے مقابلے میں سستا ہو گا جس سے مارکیٹ میں مقابلے کی جو فضاقائم ہو گی، اس کامقابلہ کرنا ملک میں جاری لوڈشیڈنگ، دہشت گردی اور صنعتوں کی بندش کے شکارپاکستانی صنعت کاروں کے لیے انتہائی مشکل ہوگا۔ کراچی چیمبرآف کامرس اینڈانڈسٹری کے صدرعبدالمجید حاجی محمدنے بھی اس معاہدے پرتنقیدکرتے ہوئے کہاکہ کراچی چیمبرآف کامرس نے اس صورت حال پرمشاورت کا آغاز کیا ہے اوراب ہم حکومت پردباﺅ ڈالیں گے کہ وہ تاجروں کو مشاورت کا حصہ بناتے ہوئے معاہدے میں ضروری ترامیم کریں۔ پشاور کے ممتاز صنعت کار اور پاک افغان تجارتی امور کے ماہر غلام سرور مہمند کاکہناہے کہ ایک جانب اس معاہدے سے پاکستان میں راہداری کے سامان کی سمگلنگ میں اضافہ ہو گاجبکہ دوسری جانب کراچی کی بندرگاہ سے افغانستان کے راستے جانے والاسامان خطرے کی زد میں ہو گا۔ ان کاخیال ہے کہ پاکستان نے بین الاقوامی دباﺅ میں آ کر عجلت میں اس معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ مہمندکامزیدکہناہے کہ معاہدے میں وسطی ایشیاکوبرآمدات سے متعلق حصے پیچیدہ اورمبہم ہیں کیونکہ ان ریاستوں میں پاکستانی برآمدات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دیگرممالک کے برعکس پاکستان کی ان ریاستوںکے ساتھ کوئی مشترکہ سرحد نہیں اور افغان سرزمین کے راستے ان ملکوں کو پاکستانی برآمدات میں اضافہ کرنے کے امکانات معدوم ہیں۔صنعت کارتنظیموں کاکہناہے کہ حکومت کو اگرمعاہدہ کرنا ہی تھاتو اچھا یہ ہوتاکہ وہ معاہدے میں جوابی طورپربھارت سے اسی نوعیت کی متبادل سہولیات کامطالبہ کرتے جس کے تحت پاکستان کوبھارت کے راستے نیپال اورمالدیپ کی راہداری دی جاتی جو وسطی ایشیائی ممالک کے مقابلے میں پاکستانی اشیاء کے لیے اچھی مارکیٹ ہے۔

گڈز ٹرانسپورٹ تنظیموں نے حکومت کی جانب سے حالیہ کیے گئے پاک افغان معاہدے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان ٹرانسپورٹ اونرز ایسوسی ایشن کے صدر اسلم خان نیازی نے ”ہم شہری“ کو بتایا کہ ٹرانسپورٹ کے شعبہ کو داﺅ پر لگا کر حکومت نے امریکا، افغانستان اور بھارت کو خوش کرنے کے لیے معاہدے پردستخط کیے ہیں جبکہ اس معاہدے سے پاکستانی ٹرانسپورٹرز خودکشیوں پر مجبور ہو جائیں گے اور ٹرانسپورٹ سے وابستہ ہزاروں افراد بے روزگار ہو جائیں گے۔ ان کاکہناہے کہ نئے معاہدے کے تحت افغانستان کے ٹرکوں اور کنٹینروں کوپاکستان میںکھلی چھٹی دے کر افغان ٹرانزٹ ٹریڈ سے وابستہ ہزاروں ٹرانسپورٹروں کے کاروبار کو شدید دھچکا لگا ہے۔ آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ سپریم کونسل کے چیئرمین چودھری مختار نے ”ہم شہری“کوبتایاکہ پاکستان میں پہلے ہی صنعتیں تباہی کے دہانے پر ہیں جبکہ پاکستانی ٹرانسپورٹروں کاگزاراافغان ٹرانزٹ ٹریڈاوراتحادی افواج کی سپلائی پرہے۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ معاہدے کے تحت یہ بتایاجا رہا ہے کہ افغان ٹرانسپورٹرزپاکستان آئیں گے مگرحقیقت یہ ہے کہ کابل میں تمام ٹرانسپورٹ بھارتی کمپنیوں کی ہے۔ انہوں نے خدشہ کا اظہار کیا ہے کہ حکومت کی جانب سے دستخط کیے گئے اس معاہدے سے پاکستانی ٹرانسپورٹرزکمپنیاں دیوالیہ ہوجائیں گی۔

first published at Weekly HUM SHEHRI Lahore


Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s